مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام کی اعلی فتوی کونسل نے اسرائیل سے کسی بھی قسم کی مدد لینے کو شرعی طور پر حرام اور قومی خیانت قرار دیتے ہوئے اس عمل کو ملک کی سالمیت کے خلاف ایک سنگین سازش سے تعبیر کیا ہے۔
فتوی میں واضح کیا گیا ہے کہ دشمن صہیونی حکومت کی طرف جھکاؤ دراصل شام کے مفادات اور اس کی وحدت کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ صیہونی حکومت فتنہ، قتل، عورتوں اور بچوں کی نسل کشی، اور بے گناہوں کی جبری ہجرت جیسے جرائم میں ملوث ہے۔ ایسے دشمن سے مدد طلب کرنا نہ صرف شرعاً ممنوع ہے بلکہ قوم سے خیانت بھی ہے۔
فتوی میں کہا گیا ہے کہ تمام شہری، خواہ کسی بھی قبیلے یا فرقے سے ہوں، ان کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
کسی شہری پر حملہ یا جبری بے دخلی کو غیر شرعی اور حرام ہے۔
فتنہ پھیلانے والوں اور صہیونی منصوبوں کو آگے بڑھانے والوں کی بیخ کنی ضروری ہے۔
یہ فتوی جنوبی شام کے علاقے سویدا میں جاری شدید جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں دروزی قبائل اور مسلح گروہوں کے مابین خونی تصادم جاری ہے۔
شامی ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں اب تک 718 افراد جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ صہیونی حمایت یافتہ جولانی حکومت ان اعداد و شمار کو کم کرکے صرف 260 ہلاکتوں کی تصدیق کر رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ